سرکاری زمینوں پر قائم کچی آبادیاں۔۔ وزیراعظم عمران خان نے انتہائی قابل تعریف اعلان کر دیا

اسلام آباد وزیراعظم نے سرکاری زمینوں پر قائم کچی آبادیوں کو ختم نہ کرنے کا اعلان کردیا، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم نے کچی آبادیوں کی بجائے بڑے قبضہ گروپوں پر ہاتھ ڈالنا ہے، کچی آبادیوں میں رہنے والوں کیلئے ہم نے آج تک کیا ہی کیا ہے؟۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت سرکاری زمینوں پر قائم کچی آبادیوں کی بجائے بڑے بڑے قبضہ گروپوں کیخلاف کاروائی کرے گی۔
وزیراعظم نے سرکاری زمینوں پر قائم کچی آبادیوں کو ختم نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری حکومت عام آدمی کے لئے آسانیاں پیدا کرنے والی حکومت ہوگی۔ وزیراعظم ہائوس سمیت 15 سرکاری جائیدادوں کو سرکاری طور پر استعمال نہ کرنے سے سالانہ 1100 کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔
مری اور نتھیا گلی کے گورنر ہائوس کو بہترین ہوٹلوں میں تبدیل کیا جائے گا۔

وزیراعظم ہائوس میں اعلیٰ معیار کی یونیورسٹی بنے گی جبکہ صرف کراچی کی ریلوے کی اراضی پر قبضہ ختم کروا کر اسے فروخت کیا جائے تو اس سے ریلوے کا خسارہ ختم ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان میں ساری ترقی اشرافیہ کے لئے ہوئی۔ امیر امیر ہوتا گیا اور غریب غریب تر۔ پیسے والے لوگ سرکاری ہسپتالوں کی بجائے پرائیویٹ ہسپتالوں میں علاج کو ترجیح دیتے ہیں۔
ہمارا وہ ملک ہے جہاں غریب امیر کو رعایتیں دیتا ہے، جبکہ پروگریسو جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا، وہاں امیر سے ٹیکس لے کر غریب پر خرچ کیا جاتا ہے۔ وزیراعظم کا مزید کہنا ہے کہ اس ملک میں اربوں کھربوں روپے کی زمین پر قبضے ہیں۔ اسلام آباد میں ہم نے قبضہ گروپ سے 100 ارب روپے سے زائد مالیت کی زمین واگذار کروائی ہے۔ یہ آپریشن ابھی بھی جاری ہے۔ اس کے بعد لاہور میں بھی قابضین کے خلاف کارروائی شروع ہو رہی ہے جبکہ کراچی میں بھی کارروائی کی جائے گی۔
اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں