عمران خان اور اسد عمر نے صرف 55 دنوں میں ملک کی پوری معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا،یہ صورتحال جاری رہی تو ایک ماہ بعد ملک میں کیا ہوگا؟معیشت کے بارے میں پہلے پلاننگ کیوں نہیں کی گئی؟ڈیڑھ ماہ میں ملک کا جلوس نکال دیا،جاوید چودھری کا تجزیہ

خواتین وحضرات ۔۔2018ء کے الیکشنوں سے پہلے ملک کا بچہ بچہ جانتا تھا اگلا وزیراعظم عمران خان اور وزیر خزانہ اسد عمر ہوں گے‘یہ دونوں بھی جانتے تھے لہٰذا دونوں کے پاس معیشت کو سمجھنے‘ پلاننگ کرنے اورپوری معیشت کو ٹرن اراؤنڈ کرنے کیلئے بہت وقت تھا لیکن نتیجہ کیا نکلا‘ آپ نے صرف 55 دنوں میں ملک کی پوری معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا‘ ڈالر 138 روپے تک پہنچ گیا‘ سٹاک ایکسچینج 38 ہزار504پر آگئی اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی‘ یہ صورتحال جاری رہی تو

ایک ماہ بعد ملک میں ہر چیز کی قلت پیدا ہو جائے گی‘ آپ کو یاد ہے آپ کہتے کیا تھے (میں خود کشی کر لوں گا لیکن آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا) آپ یہ کہا کرتے تھے اور آپ اب کیا کہہ رہے ہیں ’’وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہ اہے کہ معیشت کے حوالے سے سخت فیصلے لیے ہیں اور آئی ایم ایف کے پاس جانا نہیں چاہتے تھے لیکن 28 ارب ڈالر اس سال ملک کو چلانے کیلئے چاہئیں، لوگ سمجھ رہے ہیں آئی ایم ایف کے پاس جانے سے ڈالرمزید مہنگا ہوگا، ایسا نہیں ہے ٗانہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا نہیں چاہتے تھے، یہ ہماری پالیسی نہیں تھی لیکن ایک ماہ 16 دن کے ذخائر رہ گئے ہیں، قرضہ 28 ہزار ارب پر چلا گیا ہے، ملک کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنا ہے، 8 ارب ڈالر قرضوں کی مد میں ادا کرنے ہیں اور 28 ارب ڈالر اس سال ملک کو چلانے کیلئے چاہئیں۔بعد ازاں تقریب سے خطاب کے بعدصحافیوں نے چوہدری فواد سے سوالات کیے، ایک صحافی نے سوال کیا کہ علی زیدی نے کہا ہے کہ ڈالر 140 تک جائیگا اس پر وفاقی وزیر نے کہاکہ میرا خیال علی زیدی کے برعکس ہے، میرے خیال میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت کم ہوگی ٗڈالر کے حوالے سے لوگ ابھی تو جوا ہی کھیل رہے ہیں، روپے کی مزید قدر کم کرانے کیلئے آئی ایم ایف سے متعلق قیاس آرائی ہو رہی ہیں، لوگ سمجھ رہے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں