بڑھتے ہوئے سیکورٹی خدشات کے باعث مقامات مقدسہ کی حفاظت کے حوالے سے سعودی حکومت کا اہم اعلان

ریاض سعودی عرب اپنی سکیورٹی کی قدرت میں اضافے کے ساتھ ان تمام صلاحیتوں کے حصول کو یقینی بنا رہا ہے جو مملکت اور مقامات مقدسہ کو شدت پسند جماعتوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مطلوب ہیں۔عرب ٹی وی نے 1979ء میں پیش آنے والے حرم مکی پر حملے کے واقعے کی یادیں تازہ کی ہیں، یہ حملہ جہیمان العتیبی نام شخص کی قیادت میں ہوا تھا۔
اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے حرم مکی کی پولیس کے ایک سابق سکیورٹی اہل کار حامد الزہرانی نے واقعے کی تفصیلات پر روشنی ڈالی۔الزہرانی کے مطابق اٴْس روز فجر کی نماز کے فورا بعد امامِ حرم شیخ السبیل رحمت اللہ علیہ کے نزدیک شدت پسندوں کی ایک بڑی تعداد کھڑی ہو گئی۔ ان کے پاس ہتھیار تھے اور وہ آوازیں بلند کر رہے تھے۔یہ اچانک صورت حال واقعتا ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔

الزہرانی سمیت سعودی پولیس اور عالم اسلام کے تمام لوگوں کی اہم ترین خواہش اٴْس وقت یہ تھی کہ حرم شریف کے اندر موجود مسلمانوں کی جانیں محفوظ رہیں۔الزاہرانی نے بتایا کہ حج کے بعد محرّم میں اٴْس وقت حرم شریف بھرا ہوا تھا۔ شدت پسندوں کا کمانڈر جہیمان العتیبی نے سفید رنگ کا لمبا چوغہ اور اس کے اندر چھوٹا ٹراؤز پہن رکھا تھا۔ اس کے سر پر روایتی سعودی رومال بھی تھا۔
سعودی حکومت نے آخر کار شدت پسندوں کی اس جماعت پر قابو پا کر حالات کو کنٹرول کر لیا۔ اس واقعے سے یہ بات بھی سامنے آ گئی کہ شدت پسند اپنے مفادات کے حصول کے لیے اسلامی تعلیمات کی کس حد تک خلاف ورزی کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔حرم مکی پر حملے کے واقعے کے بعد سے سعودی حکومت مقامات مقدسہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں